کنداپور 3/ فروری (ایس او نیوز) کنداپور سرکاری جونیئر کالج میں حجاب پہننے والی مسلم لڑکیوں کو کیمپس کے گیٹ پر ہی روکتے ہوئے کلاس میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق کالج پرنسپال نے خود باہر آ کر گیٹ پر ہی حجاب پہنی ہوئی مسلم طالبات کو اندر داخل ہونے سے منع کیا ۔ اس موقع پر طالبات اور پرنسپال کے درمیان تھوڑی دیر کے لئے بحث ہوئی ۔ پرنسپال کا کہنا تھا کہ سرکار کی طرف سے اڈپی حجاب تنازع پر اسٹیٹس کیو برقرار رکھنے کا سرکیولر جاری ہوا ہے اس لئے انہیں حجاب کے ساتھ اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ جبکہ طالبات نے یہ دلیل دی کہ اس سرکیولر میں کنداپور گورنمنٹ کالج کا تذکرہ نہیں کیا گیا ہے ۔ اس پر پرنسپال نے جواب دیا کہ حکومت کی طرف سے جاری کیے گئے سرکیولر کا پوری ریاست پر اطلاق ہوتا ہے ۔ اس لئے طالبات کو کالج میں حاضر رہنا ہے تو پھر حجاب اتار کر ہی اندر آنا ہوگا ۔ اس طرح حجاب والی طالبات کو کلاس میں حاضر ہونے کا موقع نہیں دیا گیا ۔
دوسری طرف یہاں کل بدھ کو تنازع شروع کرنے کے لئے جن سیکڑوں غیر مسلم طلبہ نے زعفرانی شال اوڑھی تھی ، انہوں نے آج اس طرح حرکت نہیں کی اور صرف کالج یونیفارم میں ہی کالج میں حاضر رہے ۔
اس نیوز سے منسلک پہلے شائع شدہ رپورٹس
کنداپور سرکاری کالج میں بھی ابھرا حجاب کا تنازع ۔ والدین کے ساتھ ایم ایل اے کی میٹنگ ہوئی ناکام
اُڈپی کالج میں حجاب کا مسئلہ: ہیومن رائٹس کمیشن نے سنگین الزامات پر حکومت سے مانگی رپورٹ
اُڈپی : حجاب چھوڑو یا پھر آن لائن پڑھائی کرو ۔ ایم ایل اے رگھوپتی بھٹ کا فرمان
اُڈپی : کالج میں حجاب کا مسئلہ ابھی نہیں سلجھا ۔ متاثرہ طالبات کر رہی ہیں گیٹ کے باہر احتجاج
اُڈپی اور چکمگلورو کے بعد اب منگلورو میں شروع ہوا حجاب اور زعفرانی شال کا تنازع
اُڈپی کالج میں حجاب والی طالبات کو داخلہ سے انکار پر چوطرفہ مذمت؛ پرنسپل کو معطل کرنے کا مطالبہ
اُڈپی کی سرکاری پی یوکالج میں طالبا ت کو حجاب پہننے کی اجازت نہیں : کالج بورڈ کا متفقہ فیصلہ